رمضان کے مہینے کا احسان اٹھا کے دیکھ
جو کچھ کہا اللہ نے، اس کو نبھا کے دیکھ

جانِ رمضان
شانِ رمضان

زندگی صبر سے آشنا ہو گئی
شانِ رمضان دہر میں عیاں ہو گئی

جو نظر میں نہیں تھا، کنارا ملا
ایسے ماہِ کرم کا سہارا ملا

اشک آنکھوں سے دامن میں آ کے گرا
مجھ خطاکار کو کیا سے کیا کر گیا

بندہ کرنے لگا رب سے وہ گفتگو
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو

شانِ رمضان آیا چار سو
ماہِ رمضان یوں آ گیا
بن کے رحمت یہ پھر چھا گیا

کیسے تجھ سے کروں سامنا
گر رہا ہوں، ذرا تھامنا

خالی دامن لیے آ گیا
بن تیرے میری ہستی ہے کیا

لاج رکھنا میری اے خدا
واسطہ ماہِ رمضان کا

بس جھکا ہے یہ سر، اور کیا مانگنا
بندہ پرور ہے تو، بس ذرا دیکھنا

تیری مرضی کو پانا میری جستجو
اللہ ہو
اللہ ہو
اللہ ہو

شانِ رمضان آیا چار سو

برکتیں یوں فلک سے اترنے لگیں
کرنیں جیسے فلک پر بکھرنے لگیں

سلسلہ رحمتوں کا دعا سے ملا
نعمتوں کا یہ کیسا مہینہ ملا

آؤ مل بانٹ کر بانٹ لو ہر خوشی
ہاں یہی ہے عبادت، یہی بندگی

شانِ رمضان ہے دلکش و خوبرو
جانِ رمضان، شانِ رمضان

السلام یا رمضان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *