کیا ہے وعدہ جو زہرا سے وہ نبھانا ہے

یہ جان جائے تو جائے — کے گھر جلے تو جلے
ہم اپنے بچوں کو لے کر چلیں گے شعلوں پر

چلیں گے شعلوں پر — زمانہ آگ کے ماتم سے اب جلے تو جلے
ان آنسوؤں کی خریدار ہے حسین کی ماں ہے

حسین کی ماں — ہمارے رونے پر دنیا اگر ہنسے تو ہنسے
جلوس رک نہیں سکتا کسی بھی قیمت پر

کسی بھی قیمت پر — ہماری سانسوں کا چاہے سفر رکے تو رکے
مثال حر کی ہے موجود ہر بشر کے لیے

ہر بشر کے لیے — وہ حرملہ کے قبیلے میں اب رہے تو رہے
کسی یزید کے آگے وہ جھک نہیں سکتا

جھک نہیں سکتا — حسینیت کی بقاء میں یہ سر کٹے تو کٹے
کہیں نہ جائیں گے مولا کو چھوڑ کر انصار

چھوڑ کر انصار — چراغِ خیمہ جلے تو جلے بجھے تو بجھے
لحد پے زہرا کی امُّ البنین کی تھی دعا

بس یہی تھی دعا — تمہارا گھر نہ لُٹے میرا گھر لُٹے تو لُٹے
دعا یہ کرتی تھی زینب حسین بچ جائے

حسین بچ جائے — گلے پہ بیٹوں کے میرے چھری پھرے تو پھرے
کریں گے سجدہ یہ آنسو حسین کے در پر

حسین کے در پر — کسی کو میرؔ تکلم برا لگے تو لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *