Qabr e Zahra hai aur Zainab hai Full Lyrics In Urdu
قبرِ زہرا ہے اور زینب ہے
صبر وہ آج کر نہ پائے گی
ماں کو داغِ رسن دکھائے گی
قبرِ زہرا ہے اور زینب ہے
صبر وہ آج کر نہ پائے گی
جو بھی گزری تھی جا کے کربل میں
اب سنائے گی ماں کی تربت پہ
قبرِ اماں کی آج لرزے گی
اِس غریبُ الوطن کی غربت پہ
کہہ کے “ماں خود” کو روتی جائے گی
تھام کر اپنا پہلو بولے گی
میں بھی دربار میں گئی امّاں
کلمہ گوؤں کے درمیان مجھ کو
ایک چادر نہیں ملی امّاں
حالِ چادر کا بھی سنائے گی
کس طرح سے رُلا رُلا کر تھا
ہائے پیاسے حسینؑ کو مارا
آخری سانس تک میرا بھائی
اپنے عباسؑ کو بلاتا تھا
آج یہ کہہ کے غش وہ کھائے گی
آج سجادؑ کس طرح سنبھلے
اور پھوپی کو سنبھالے وہ کیسے
دونوں کربل سے لُٹ کے آئے ہیں
زخم دونوں نے پائے ایک جیسے
دردِ عابدؑ کا بھی سنائے گی
قبرِ عباسؑ کے ہی پہلو میں
جیسے منظر ہے نہر کا یا رب
وہ بنائے گی قبرِ زہرا پر
اپنے آنسوؤں سے علقمہ یا رب
کتنے آنسو یہاں بہائے گی
امّاں زہرا سے آ کے بولے گی
چھوٹی زہرا گزر گئی امّاں
شام تک ظلم اس قدر گزرے
کہ سکینہؑ گزر گئی امّاں
اُس کی تدفین بھی سنائے گی
بن کے عباسؑ ساتھ زینبؑ کے
اُج اُمُّ البنینؑ آئے گی
وہ ضعیفہ لحد سے زینبؑ کو
دے کے پرسہ اُٹھا نہ پائے گی
تب وہ عباسؑ کو بلائے گی
بعدِ عباسؑ شام میں امّاں
یوں مرا قتلِ عام ہوتا تھا
بھیڑ میں شامیوں کے ہونٹوں پر
تری زینبؑ کا نام ہوتا تھا
رو کے عابدؑ کو بھی رُلائے گی
امّاں زہرا سے آ کے بولے گی
چھوٹی زہرا گزر گئی امّاں
شام تک ظلم اس قدر گزرے
کہ سکینہؑ گزر گئی امّاں
اُس کی تدفین بھی سنائے گی
ہاتھ رَسّی میں تھے بندھے میرے
اور چادر سنان پہ تھی امّاں
میرے سر پہ وہاں لگے پتھر
تیری زخمی رِدا ہوئی امّاں
اپنی چھلنی رِدا دکھائے گی