جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

آل عمران کہاں ‘ اور زندان کہاں
یہ بہن قید ہوئ ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

ہم کو پانی نہ ملے ‘ تیری خوشبو تو رہے
تیرے بازو نہ کٹیں ‘ چاہے مشکیزہ چھدے
یہ مگر ہو نہ سکا ‘ تیرے بازو ہیں جدا
ہم پہ ہے تشنہ لبی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

دھوپ میں تو تھا شجر ‘ تجھ سے آباد تھا گھر
ہے برہنہ میرا سر ‘ کیا نہیں تجھ کو خبر
اے علمدار وفا ‘ اس بہن کو با خدا
تجھ سے ڈھارس تھی بڑی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

آگئ شام الم ‘ لٹ گۓ اہل حرم
ریت پر جلتی ہوئی ‘ ہوگيا ٹھنڈا علم
پرسہ دینے کے لئے ‘ تجھ سے ملنے کے لیے
آگۓ بابا علی،، ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

کیا کہوں شیر میرے ‘ بے ردا ہم کو لیے
یہ مسلماں سارے ‘ شہر در شہر گئے
خلقت کوفہ کبھی ‘ خلقت شام کبھی
بار ہا ہم پہ ہنسی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

کتنی بے بس تھی بہن ‘ اے شہنشاہ وفا
نام لے لے کے میرا ‘ جب یہ ظالم نے کہا
ناز تھا جس پہ تجھے ‘ اب بلاؤ نا اسے
اور میں روتی رہی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

قید خانے میں خزاں ‘ جب سکینہ کو ملی
دے کے کرتے کا کفن ‘ بچی دفنائ گئ
اس گھڑی نام تیرا ‘ صورت ناد علی
بس میں دہراتی رہی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

رویا ریحان قلم ‘ کر کے یہ بات رقم
خون میں ڈوب گیا ‘ میرے غازیؑ کا علم
زخمی زینبؑ کا جگر ‘ خوں فشاں شاہ کا سر
آۓ خیموں میں شقی ‘ تو نہ آیا غازیؑ

جب ردا سر سے چھنی
میں صدا دیتی رہی
تو نہ آیا غازیؑ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *