بلانے جاؤں گی مشکل کشا کو ہاتھ پھیلا کر
دکھادو تم سکینہ کو نجف کا راستہ بابا
ثانی ۔۔۔۔تمہارے بعد جینے کا نہیں ہے حوصلہ بابا

بتاؤں گی انہیں روکر ستم کتنے ہوئے ہم پر
جلا سجاد کا خیمہ پھوپھی کی چھن گئی چادر
دکھاؤں گی نجف جاکر مین یہ کرتا جلا بابا

کہوں گی جاکے دادا سے ہے مدد کرنے کو آجائیں
جلے خیمے سے عابد کو بچا کر ساتھ لے جائیں
کہوں گی میں یہاں تم پر ستم کتنا ہوا بابا

دکھانے لاؤں گی اصغر کا جھولا اب جو خالی ہے
مری ماں سامنے جھولے کے گر کر اٹھ نہ پاتی ہے
سناؤں گی اسے وہ تیر تھا کیسے لگا بابا

چچا عباس کے ہوتے ہوئے محفوظ تھے پردے
وہ دریا کیا گئے چھینی گئی سب چادریں ہم سے
چھپاؤں گی میں ہاتھوں سے جو ہے یہ سر کھلا بابا

لرز کے رہ گئی ہوگی سحاب اس وقت کربل بھی
تن بے سر پہ بابا کے جو بیٹی کہہ رہی ہوگی
نہ جاؤں گی میں زنداں کو علی کا واسطہ بابا

 

Lyrics: ARIF SAHAAB

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *