چھن گئیں سر سے چادریں بھائی، بالیاں چھن گئی کانوں سے
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

بعد تیرے یہ تیری بہنوں پر، ظلم کیا کیا نہیں ہوا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

بے کفن خاک پر پڑی لاشیں، سوچ کر دل میرا تڑپتا ہے
لاش اکبر کے ساتھ ایسے ہی، ننھا اصغر بھی رہ گیا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

راہ میں پیاس سے سکینہ جب، تجھ کو آواز دے کے روتی ہے
مارتے ہیں لعین دروں سے، اس کو پانی نہیں ملا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

شام میں وہ ہجوم کا منظر، دیکھ کر گر پڑا ترا سر تو
رو رہا تھا حسینؑ کا سر بھی، غم یہ سجادؑ نے سہا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

جس کا عباسؑ جیسا بھائی تھا، بے رِدا رو رہی ہے وہ زینبؑ
اس کی غربت کی حد یہ ہے اس کو، مانگ کر نا ملی ردا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

ہاتھ زخمی ہے، کان بھی زخمی، اور رخسار سے ہے خوں جاری
لاڈلی یہ تری سکینہؑ ہے، چھن گئی اس کی بھی ردا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

آگ خیموں میں جب لگی بھائی، جل گیا دامنِ سکینہؑ بھی
وہ تجھے ڈھونڈنے ہی نکلی تھی، راستہ پر نہیں ملا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

تیرے بازو کٹے جو دریا پر، اشقیا آ گئے تھے خیموں تک
ننھے بچوں پہ جب لگے درے، تجھ کو دیتے رہے صدا عباسؑ
تیرا سایہ جو نا رہا عباسؑ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *