Be Sir Badan Say Aati Hai Khushbu Hussain Ki Full Lyrics
بے سر بدن سے آتی ہے خوشبو حسینؑ کی
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
روتی ہوئی بہشت سے آئی ہے فاطمہ
ٹکڑے بدن کے ہیں کہیں ، سر ہے کہیں پڑا
گھوڑوں کے درمیان ہے احمد کا لاڈلا
لاشہ میرے حسینؑ کا پامال ہوگیا
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
بوسہ رسول دیتے تھے حلقوم پر کبھی
دیکھو تو آج شمر کا خنجر چلا وہی
ظالم نے کند تیغ سے کاٹا ہے وہ گلہ
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
چھلنی ہے جسم تیر سے پتھر ہیں نعش پر
کرتا نہیں بدن پہ ہے لاشہ بھی خوں میں تر
ظالم کی برچھیوں سے ہے سینہ چھدا ہوا
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
ملبوس خلد سے کبھی آتا تھا واسطے
ہے بے کفن بدن پڑا مظلوم کا مرے
میرے غریب لال سے کیا تھا ہوا خطا
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
پیوست آنکھ میں بھی ہے نیزہ امام کے
منظر زوہیر ، سیدہ دیکھے گی یہ کیسے
بیٹے کا حال دیکھ کے زہرا نے دی صدا
اے کربلا حسینؑ کا کیا حال کر دیا
Poet: Zuhair Turabi