بے کس پہ کرم کیجئے، سرکار مدینہ​
گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ

ہے وقت مدد، آئیے بگڑی کو بنانے​
پوشیدہ نہیں آپ سے کچھ دل کے فسانے​
زخموں سے بھرا ہے کسی مجبور کا سینہ​
بے کس پہ کرم کیجیئے، سرکار مدینہ

چھائی ہے مصیبت کی گھٹا گیسؤوں والے​
اللہ میری ڈوبتی کشتی کو بچالے​
طوفان کے اُثار ہیں، دشوار ہے جینا​
بے کس پہ کرم کیجئے سرکار مدینہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *