Gir Ke Ghazi Ki Lash Par Zainab Rukh Madinay ka Noha Full Lyrics
گر کے غازی کی لاش پر زینبؑ، رُخ مدینے کا کر کے کہتی تھی بھائیوں والی نہ رہی زینبؑ
میری نظروں کے سامنے امّاں میرے پیا سے حسینؑ کو مارا
تیر اُترے ہیں اتنے سینے میں اُس کا لاشہ نظر نہیں آتا
بے کفن وہ رہے گا مقتل میں بے ردا شام جائے گی زینبؑ
رشک مجھ پر مدینہ کرتا تھا میں تھی اٹھارہ بھائیوں والی
امّاں ام البنینؑ بھی میرے اس مقدر پہ ناز کرتی تھی
آج عباسؑ چھن گیا مجھ سے چادروں کو ترس گئی زینبؑ
دُکھ سکینہؑ کے اور زینبؑ کے مشترک ہیں کہ بھائی کھوئے ہیں
اُس کا اصغرؑ بھی اور علی اکبرؑ زخم پر زخم کھا کے سوئے ہیں
بھائی سجادؑ بچ گیا اُس کا، اپنا ہر بھائی کھو چکی زینبؑ
پردہ داروں کی سب ردائیں تو ساتھ خیموں کے جل گئیں امّاں
میرا پردہ بنانے والا بھی کوئی باقی رہا نہیں امّاں
پشت سے جب بند ھے تھے یہ باز و ہاے کچھ بھی نہ کر سکی زینبؑ
گھر سے باہر کبھی نکلتی تو خاک پر اک قدم نہ رکھا تھا
پیر رکھنے سے پہلے مٹی پر میرا عباسؑ ہاتھ تھام رکھتا تھا
اب ہے آلودہ خاک سے چہرہ چلتے ناقے سے یوں گری زینبؑ
میرا بھائی حسینؑ ہوتا تو تازیانے نہ یوں مجھے لگتے
نہ رہا وہ تو اب سکینہؑ کی بالیاں چھین لی لعینوں نے
اُس نے نکھاے طلماۓ نچے چہرے پر اور نہ اُس کو بچا سکی زینبؑ
میرے بابا علیؑ نے مانگا تھارب سے عباسؑ کو دعاؤں میں
بہہ گیا علقمہ میں خوں اُس کا اب وہ بھائی کہاں سے لاؤں میں
اُس کا لاشہ بکھر گیا امّاں اور تنہا ہی رہ گئی زینبؑ
علقمہ پر سحاب غازی کا لاشہ اُٹھا اُٹھ کے گر گیا اُس دم
زخمی سر رکھ کے زخمی سینے پر بنتِ زہراؑ نے جب کیا ماتم
کربلا کی زمیں لرزتی تھی جب تھی روروکے کہہ رہی زینبؑ
Poet: Arif Sahab