بڑے بڑوں سے بڑا ہے حسینؑ کا اصغرؑ
حسینیت کی بقا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

غرور کرتی تھی جس حرملا پہ فوج یزید
اُسی پہ رن میں ہنسا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

جو مانگنا ہے تو جھولے کی سمت آ جاؤ
امیرِ کرب و بلا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

کبھی سرور کی آنکھوں سے پڑھ کتاب عطش
ورق ورق پہ لکھا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

قدم اٹھا نہیں پایا مگر یزید تیرے
قدم اکھاڑ گیا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

بلال اب میری قامت کو کون ناپے گا
میری جبیں پہ لکھا ہے حسینؑ کا اصغرؑ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *