تمہارے بعد چہرے پر طمانچے اتنے کھائے ہیں
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا
میرا بھی حال ہے زہرا کے جیسا کر دیا بابا

 

میرا زخمی ہے یہ چہرا میرا پہلو شکستہ ہے
مسلسل ضد پہ صدموں کی تیری پیاسی یتیمہ ہے
میرا بھی حال ہے زہرا کے جیسا کر دیا بابا
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا

 

صدا دے کر نہیں روتی مگر دل خون روتا ہے
جو گہری سانس لو ں تو پسلیو ں میں درد ہوتا ہے
میرے پہلو کو نیزوں سے شکستہ کر دیا بابا
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا

 

علی مشکل کشا کو میں نجف جاکر بُلا لوں گی
ملے راستہ تو یہ منظر انہیں لا کر دکھا وں گی
پھوپھی کو شام والوں نے ہے تنہا کر دیا بابا
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا

 

سنو تو اب سکینہ بھی مجھے کہتا نہیں کوئی
مجھے جو شمر کہتا ہے وہ سہہ نا پاوگے تم بھی
میرا تو نام ہی اُس نے یتیمہ کر دیا بابا
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا

 

تمہارے بعد چہرے پر طمانچے اتنے کھائے ہیں
مجھے ایک روز میں جس نے ضعیفہ کر دیا بابا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *