اپنی قسمت آزما کر دیکھنا
تم عزا خانے میں آکر دیکھنا

میرا دعویٰ ہے اجڑ سکتے نہیں
کربلا دل میں بسا کر دیکھنا

خود منافق کا پتہ چل جائیگا
حیدری نعرہ لگا کر دیکھنا

ہو اگر جنت زمیں پر دیکھنی
کربلا اک بار جا کر دیکھنا

تم کو زہراؑ کی دعا مل جائے گی
پرچمِ غازیؑ اٹھا کر دیکھنا

چاند سورج ماند پڑ جائیں گے پھر
داغ ماتم کے سجا کر دیکھنا

مثلِ حارث دشمنِ حیدرؑ پہ بھی
عرش سے برسیں گے پتھر دیکھنا

وہ تو ہھر مولا علیؑ ؑ ہیں حشر میں
مرتبہ قنبر کا آ کر دیکھنا

پنجتن مہمان خود ہو جائیں گے
فرش مجلس کا بچھا کر دیکھنا

آگ لگتی ہے دھواں اٹھتا نہیں
منکروں کا دل جلا کر دیکھنا

خوشبوئے رومال زہراؑ چاہئے
اشک مجلس میں بہا کر دیکھنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *