Chairr Diya Hay Zikr e Maula Mimbar janay Haider janay Lyrics Urdu
چھیڑ دیا ہے ذکرِ مولا، منبر جانے حیدر جانے
کفر ہے گر یہ عشقِ علیؑ کا، تو کافر جانے حیدر جانے
بنتِ اسد تو جائیں گی ہر حال میں کعبے کے اندر
در ہوگی دیوار کہاں سے، مادر جانے حیدر جانے
اسماعیل یہ سوچ رہے تھے کیوں گردن پر ہاتھ رکھوں
نادِ علیؑ ہے میری زباں پر، خنجر جانے حیدر جانے
مولا تیری شان کہ تیرے دشمن کو بھی مشکل میں
مجبوراً کہنا پڑتا ہے، حیدر جانے حیدر جانے
عارفِ اعجازِ علیؑ ہیں، مادر ہیں امت تو نہیں
بنتِ اسد کو فکر نہیں اب، آذر جانے حیدر جانے
ہم کو تو بس اتنا پتا ہے سونے والا حیدر تھا
لگنے لگا وہ کیسے پیغمبرؐ، بستر جانے حیدر جانے
شام میں اور معراجِ نبیؐ میں ایک ہی لہجہ گویا تھا
کس نے رکھا ہے کس کا پردہ، دختر جانے حیدر جانے
شیرِ خدا کا پوتا ہے یہ کہہ کر ماں نے بھیج دیا
لڑتا ہے اب کیسے رن میں، اصغر جانے حیدر جانے
میر حسن اور سبطِ جعفر بندۂ حیدر ہیں دونوں
ان کے کفن پر لکھوا دینا، نوکر جانے حیدر جانے