لے کے آیا در زہراء پہ جو کاسہ خالی
غیر ہو کر بھی وہ سائل نہیں لوٹا خالی
لے کے آیا در زہراء پہ جو کاسہ خالی

فاطمہ زہراء کی گلیوں کا جو بن جائے فقیر
اُس کا کشکول کبھی بھی نہیں رہتا خالی
لے کے آیا در زہراء پہ جو کاسہ خالی

نہر آجاتی سکینہ س کی قدم بوسی کو
کرتے عبّاس ع اگر اُس کو اشارہ خالی
لے کے آیا در زہراء پہ جو کاسہ خالی

مصطفیٰ، مرتضیٰ بھی آتے ہیں حسنین کے ساتھ
فرش مجلس میں نہیں آتی ہے زہراء خالی
لے کے آیا در زہراء پہ جو کاسہ خالی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *