بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے
جو تھا مصطفیٰ مرتضیؑ ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

پِلاو پِلاو مہءِ عشقِ حیدرؑ
پِلاو پِلاو مہءِ عشقِ حیدرؑ
مجھے یا علیؑ کا نشہ ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

خدا نے کہا لا فتح بس علی ہے
خدا نے کہا لا فتح بس علی ہے
سو ہر لا فتح، لا فتح ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

کیوں میدان نہ پلٹے یہ ضرب طبسم
کیوں میدان نہ پلٹے یہ ضرب طبسم
کہ بے شیر شیرِ خدا ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

عجب بوکھلاہٹ میں مرحب پکارا
عجب بوکھلاہٹ میں مرحب پکارا
یہ کیا میں نے سوچا تھا کیا ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

مقابل میں درد و الم سب ہے چھوٹے
مقابل میں درد و الم سب ہے چھوٹے
سکینہ کا اصغر بڑا ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

یہ راہب یہ فطروس یہ جبریل یہ حر
یہ راہب یہ فطروس یہ جبریل یہ حر
جسے شہ نے جو بھی کہا ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

پلٹ آیا ہوں شمس کہنے پہ ان کے
پلٹ آیا ہوں شمس کہنے پہ ان کے
علیؑ سے میرا رابطہ ہو گیا ہے
بہت مطمعن اب خدا ہو گیا ہے

POET : SHAMS JAFFRAY

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *